انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے

انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے۔

اسی تناظر میں میثاق مکہ مکرمہ سامنے آیا، جسے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، حفظہ اللہ کی سرپرستی حاصل رہی اور جو  رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا؛ تاکہ مذہبی وثقافتی تنوع کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور ہماری دنیا کے امن نیز اس کے معاشروں کی باہمی ہم آہنگی کے لیے جامع مشترکات کو فروغ دیا جا سکے۔

اس تاریخی میثاق پر 1200 سے زائد علمائے کرام ومفتیانِ عظام اور 4500 سے زائد اسلامی مفکرین نے دستخط کیے، جو تمام اسلامی مسالک اور مکاتبِ فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے قبلہٴ واحد مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے تھے۔ نیز اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے بھی اپنے دینی، تعلیمی اور ثقافتی اداروں میں اس کے مضامین ونکات سے استفادہ کرنے کے لیے اسے باضابطہ منظور کیا؛ اور یہ پہلی ایسی دستاویز ہے جسے تنظیم نے اپنی اور اقوامِ متحدہ کی دستاویزات کے علاوہ کسی بین الاقوامی فورم کی دستاویز کے طور پر منظور کیا ہے۔

انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے
انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے
انسانوں کے مابین مذاہب اور ثقافتوں کا تنوع واختلاف ایک سنتِ الٰہی ہے، اور اسلامی تعلیمات نے اس تنوع کے ساتھ عدل، احسان اور انسانی کرامت کے تمام تر تقاضوں پر مبنی تعامل کے منہج کو راسخ کیا ہے
Post date منگل, 3 November 2026