رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے خلیجی ممالک اور اردن پر مجرمانہ ایرانی حملوں کی مذمت میں سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیر مقدم
مکہ مکرمہ:
رابطہ عالم اسلامی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے قرارداد نمبر ”2817“ کی 13 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظوری کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ یہ قرارداد مملکت سعودی عرب، مملکت بحرین، متحدہ عرب امارات، ریاست قطر، سلطنت عمان، ریاست کویت اور مملکت اردن ہاشمیہ کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی تھی، جس میں خلیجی ممالک اور اردن کی سرزمین پر ہونے والے مجرمانہ ایرانی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں ان حملوں، اشتعال انگیزیوں اور ہمسایہ ممالک کو دی جانے والی دھمکیوں، بشمول گماشتہ گروہوں کے استعمال کو فوری اور غیر مشروط طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں، سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے سلامتی کونسل کے اس دوٹوک موقف کو سراہا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس قرارداد کی بھاری اکثریت سے منظوری، اور اقوام متحدہ کے 135 رکن ممالک کی تاریخی تائید و حمایت، ایرانی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ اس کی مجرمانہ لاقانونیت، پُرامن ممالک پر لایعنی بہانوں کے ساتھ مسلسل جارحیت، اور ان کے شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی یکسر مسترد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افراتفری پھیلانے اور جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی یہ مذموم کوششیں عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
ڈاکٹر العیسی نے قرارداد میں رہائشی علاقوں پر حملوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت، اور متاثرہ ممالک کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین پر زور دیا کہ وہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی اپنی قانونی ذمہ داریوں کے تحت اس قرارداد پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور ایران کو متعلقہ بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرنے کا پابند بنائیں۔
جمعرات, 12 March 2026 - 08:04