رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی بیلجیئم کی وفاقی پارلیمان کے اسپیکر سے ملاقات
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کی بیلجیئم کی وفاقی پارلیمان کے اسپیکر سے ملاقات
برسلز: بیلجیئم کی وفاقی پارلیمان کے اسپیکر جناب پیٹر ڈی روور نے دارالحکومت برسلز میں وفاقی پارلیمان کے صدر دفتر میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسی کا استقبال کیا۔
دونوں جانب سے ہونے والی بات چیت میں مختلف سطحوں پر مؤثر مکالمے کے فروغ سے متعلق متعدد موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، کیونکہ اعتبار اس کے کہ مکالمہ سرحدوں سے ماورا بین الاقوامی بحرانوں سے نمٹنے کا ایک بنیادی پُرامن ذریعہ ہے۔ اس موقع پر رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے انجام دی جانے والی ’’پیشگی مذہبی سفارت کاری‘‘ کی اہمیت، نیز دنیا بھر کے متنوع مذہبی اداروں کے تنازعات کو جنم لینے سے پہلے ہی روکنے میں مؤثر کردار پر زور دیا گیا، بالخصوص ان تنازعات کے حوالے سے جن کا تعلق نفرت اور تہذیبی تصادم کے تصورات سے ہے۔ اس سلسلے میں اس حقیقت کے بارے میں پیشگی شعور اجاگر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا کہ اختلاف اور تنوع کا وجود ایک ناگزیر کائناتی حقیقت ہے، جس سے مکالمے، مفاہمت اور مشترکہ اقدار پر مل کر کام کرنے کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے، تاکہ ہمارے عالم میں امن اور معاشروں میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، اور سب کے باوقار وجود کے حق کا احترام کیا جائے۔
پارلیمان کے اسپیکر نے گفتگو کے دوران ڈاکٹر العیسی کی کاوشوں اور رابطہ عالم اسلامی اور مسلم علماء کونسل کی جانب سے ان کی بین الاقوامی سرگرمیوں کو بے حد سراہا۔ انہوں نے اس ضمن میں مفاہمت اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے رابطہ عالم اسلامی کے قائدانہ کردار کی تعریف کی، جس کا مقصد پُرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا اور معاشروں کے درمیان اعتماد قائم کرنا ہے۔ انہوں نے اس بین الاقوامی کردار کو مثبت عالمی تنوع اور ’’ پیشگی سفارت کاری‘‘ کی ایک زندہ مثال قرار دیا۔
پارلیمان کے اسپیکر نے رابطہ کی جانب سے ڈاکٹر العیسی کی بین الاقوامی کاوشوں اور سرگرمیوں کی عملی نوعیت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ جاتی سرگرمیاں محض نظریاتی دائرے تک محدود نہیں، بلکہ دنیا بھر کی مختلف قیادتوں اور معاشروں کے ساتھ عملی روابط تک پھیلی ہوئی ہیں، جس سے رابطہ عالم اسلامی کا کردار قیامِ امن اور بقائے باہمی، رواداری اور معاشرتی ہم آہنگی کی اقدار کے فروغ میں عملی نمونہ بن گیا ہے۔