رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا

اقوام متحدہ کی حمایت اور شرکت سے، جنرل اسمبلی کے 81ویں اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران:
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا

نیویارک:
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی حمایت اور شرکت سے جنرل اسمبلی کے 81ویں اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔

تقریب میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالكريم العیسی، اقوام متحدہ کے  تہذیبوں کے اتحاد کے  اعلیٰ نمائندے میگوئل موراتینوس، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اسماعیل ولد شیخ احمد، اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کی سیکرٹری جنرل ریبیکا گرینسپن، مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر تحقیق میں دلچسپی رکھنے والی متعدد مذہبی قیادتوں، امریکہ کی بڑی مصنوعی ذہانت کمپنیوں، عالمی بینک، ممتاز امریکی جامعات اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے منصب کے لیے نمایاں امیدواروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب کے اہم موضوعات میں مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات سے متعلق امور کے حل میں بین الاقوامی سطح پر متنوع شراکت داری کی اہمیت شامل تھی۔ اس میں ’’مذہبی پہلو‘‘ اور ’’تہذیبی پہلو‘‘ بالخصوص قابلِ ذکر تھے، کیونکہ دونوں کے مشترکہ اخلاقی اصول ان اخلاقی تحقیقات کا ایک اہم حصہ ہیں، جن کی بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے ذمہ داری  اقوام متحدہ کے  تہذیبوں کے اتحاد کے سپرد ہے۔ اس ضمن میں بالخصوص ایسے مواد پر توجہ مرکوز کی گئی جو نفرت، تشدد اور تہذیبی تصادم کو نظریاتی، خصوصاً مذہبی اور متعلقہ فکری محرکات کی بنیاد پر فروغ دیتا یا اس پر اکساتا ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر اس امر کی سفارش کی گئی کہ  اقوام متحدہ کے  تہذیبوں کے اتحاد کو ’’اتحادِ تہذیب کی مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات کا ضابطہ‘‘ مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے، اور اس مقصد کے لیے تنظیم کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جس میں مختلف مذہبی قیادتوں، فکری، تعلیمی اور قانون سازی کے ماہرین، نیز ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندے شامل ہوں، تاکہ اس معاملے میں ایک ایسا عالمی اتفاقِ رائے تشکیل دیا جا سکے جو ’’اتحادِ تہذیب‘‘ کی مشترکہ نمائندگی کرے۔

تنظیم کے اعلیٰ نمائندے میگوئل موراتینوس نے اس تجویز پر مکمل آمادگی کا اظہار کیا، جس پر شرکاء نے ان کے مثبت تعاون کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

دوسری جانب رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد العیسی نے اعلان کیا کہ رابطہ بعض ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تعاون سے مصنوعی ذہانت کی ایک لیبارٹری قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مذہبی امور سے وابستہ دینی، تعلیمی اور انسانی اداروں کے لیے قابلِ استفادہ پروگرام تیار کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسلامی اور عربی مصادر و کتب کی ایک بڑی تعداد کو ڈیجیٹل اور خودکار نظام میں منتقل کرنے پر کام کیا جائے گا، تاکہ انہیں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا جا سکے، جبکہ اس عمل میں  حقوقِ ملکیت  کا مکمل لحاظ رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید ایک خصوصی یونٹ کے قیام کا اعلان کیا جو ترجمے کی غلطیوں کی نشاندہی، ان کی اصلاح اور اس حوالے سے حاصل ہونے والی معلومات کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے کام کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد اسلامی متون اور ان سے متعلق علوم کے تراجم میں بہت سی غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کے نتیجے میں حقیقت سے مطابقت نہ رکھنے والے تصورات پیدا ہوئے اور انتہائی غلط تصورات وآرا نے جنم لیا۔

رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا
رابطہ عالم اسلامی نے نیویارک میں ’’سب کے لیے مصنوعی ذہانت... ایمان، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا
Post date جمعرات, 24 September 2026