رابطہ عالم اسلامی کی انسانی ہمدردی کے شعبوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں کے پہلے فورم میں بطور مہمان خصوصی شرکت

رابطہ عالم اسلامی کی  انسانی ہمدردی کے شعبوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں  کے پہلے فورم  میں بطور مہمان خصوصی شرکت

مذہبی سفارت کاری  کی تاثیر اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں امدادی پروگرام کو مربوط کرنے کے لئے

رابطہ عالم اسلامی کی  انسانی ہمدردی کے شعبوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں  کے پہلے فورم  میں بطور مہمان خصوصی شرکت

امدادی کاموں میں  خالص مذہبی پہلو ،سب سے مضبوط سب سے زیادہ پُر جوش اور پائیدار محرکات میں سے ہے۔ ڈاکٹر العیسی

رابطہ کا امدادی پروگرام  بلا کسی تفریق ایمان اور انسانیت پر  مبنی ہے۔ ڈاکٹر العیسی

ڈاکٹر العیسی کی جانب سے امدادی کاموں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والوں کے  اعزاز کے لئے بین الاقوامی ایوارڈ کے اجراء کا اعلان

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے طبی شعبوں میں کام کرنے والوں کی فوری اور مؤثر امداد  پر زور

دنیا میں پناہ گزینوں کا بحران اتنا بڑا ہے  کہ کوئی بھی ادارہ اکیلے اس سے نبرد آزما نہیں ہوسکتا۔اقوام متحدہ کا اعلی کمشنر برائے مہاجرین

فلاحی  شعبے میں  غیر سرکاری تنظیمات کا کردار سب سے اہم اور مؤثر ہے۔وزیر اعظم ناروے

مذہبی تنظیمات اور معاشرے امدادی شعبے  کا ہراول دستہ اور طویل المیعاد  بنیاد  ہیں۔ سیکرٹری جنرل ورلڈ کونسل آف چرچز

امدادی مہم کو در پیش چیلنجز صرف جنگوں اور جھڑپوں تک محدود نہیں ہیں۔سیکرٹری جنرل عالمی انجمن صلیب احمر وہلال احمر

باہمی تعاون سے ہم تنازعات  اور جنگوں کا مقابلہ،بھوک کا خاتمہ اور امن قائم کرسکتے ہیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ فوڈ پروگرام

جنیوا:

مذہبی سفارت کاری کی تاثیر اور اسے پیش کرنے کی اہمیت اور  تمام عالمی مسائل پر اس کے اثرات کی واضح عکاسی کرتے ہوئے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل  عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی  اعلی سطحی فورم  کے  مہمان خصوصی   رہے۔فورم میں  امدادی   شعبے میں سرگرم   نامور   بین الاقوامی  اور اقوام متحدہ کی  تنظیمات نے  اپنے سربراہان کی  موجودگی میں شرکت کی اور اپنی تاریخ میں پہلی بار  دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے عالمی تبدیلیوں اور ان کے تناظر میں  نئے انسانی بحرانوں پر قابو پانے کے لئے  باہمی تعاون کے لئے منظم لائحہ عمل پر غورکیا۔

جنیوا میں منعقد ہونے والے اس فورم کو”امدادی شعبوں میں بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان تعاون“  کا نام دیا گیا جس میں رابطہ عالم اسلامی اور ورلڈ کونسل آف چرچز کے  علاوہ  عالمی ادارۂ صحت ،اقوام متحدہ کے اعلی کمشنر برائے مہاجرین، اقوام متحدہ کے ادارے  یونیسف،عالمی انجمن صلیب احمر وہلال احمر،ورلڈ فوڈ پروگرام اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں خدمات سر انجام دینے والی نامور  شخصیات نے شرکت کی۔

فورم کا آغاز ڈائیلاگ فار پیس فاؤنڈیشن کے بانی اور صدر  کے خیر مقدمی کلمات سے ہوا  جس میں انہوں نے اس نیک خواہش کا اظہارکیا کہ یہ فورم مثبت تعاون کے ذریعے عالمی امدادی  عمل کا   ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا جو دنیا میں امن کے قیام میں معاون  کردار اداکرسکتاہے۔

اس کے بعد فورم کے افتتاحی تقریب کا آغاز ہوا  جس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے مہمان خصوصی عزت مآب  ڈاکٹر العیسی نے کہاکہ اصل کے اتحاد اور متعدد انسانی مشترکات  ہمیں ایک دوسرے کو بھائی کے طور پر قبول کرنے   اور  اس بھائی چارے کے مفہوم کو یقینی بنانے کے لئے ایک دوسرے سے  قول وعمل کے ذریعے ہمدردی سے پیش آنے  کو  ضروری بناتی ہیں ۔

ڈاکٹر العیسی نے کوویڈ19 کے دوران عالمی مصائب کے تناظر میں  ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم کی قیادت  میں عالمی ادارۂ صحت کی شاندار امدادی خدمات  کو  زبردست خراج تحسین پیش کی۔انہوں نے  انسانی ہمدردی کے شعبے میں  خدمات سرانجام دینے والی دیگر بین الاقوامی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں اور اداروں کو  بھی خراج تحسین پیش کیا، تاہم انہوں نےاس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ  انسانی ہمدردی  کا عمل یکجہتی اور ہمدردی  کی اس سطح تک نہیں پہنچا جس کی ضرورت تھی،اورایک ہی بین الاقوامی نظام کے باجود  امیر اور غریب کے درمیان  وسیع  خلیج قائم  ہے ۔

ڈاکٹر العیسی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہم امیر اور غریب طبقے کے فرق کے وجود   پر اعتراض نہیں کررہے،یہ زندگی کی حقیقت ہے ۔ ہم امیروں کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ غریبوں کی کفالت کرکے ان کا دکھ بانٹیں، خصوصاً روز مرہ کی ضروریات کے لئے جیسے کہ خوراک،صحت اور تعلیم  ۔انہوں نے مزیدکہاکہ  مثال کے طور پر یہ تکلیف دہ ہے کہ امیر کوویڈ19 کی ویکسین حاصل کریں اور غریب  اس سے محروم ہوں یا انہیں دیر سے ملے  یا انہیں صرف چند  ڈوز ملیں۔ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امیروں کو خود سے یہ عمل شروع کرنے کا حق ہے مگر دوسروں کو بھولنا نہیں چاہئے۔

رابطہ عالم اسلامی کےسیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں انسانی ہمدردی کے کاموں کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئےکہاکہ  یہ متعدد ہیں۔جن میں سے بعض صرف انسانی ہیں یا بین الاقوامی ضرورت، جب کہ بعض اعمال کا  تعلق مادی وجوہات سے ہے اور ان کا اقدار سے کوئی تعلق نہیں بلکہ  وہ مفادات  کے لئے ہیں مگر ان سب سے دنیا بھر کے ضرورت مند اور بے سہارا لوگ استفادہ کررہے ہیں۔

آپ نے  اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ  امدادی کاموں کے پیچھے ایک اور محرک بھی موجود ہے  جو امدادی کاموں کو بہت  زیادہ طاقت بخشتی ہے ، اور  وہ مذہبی پہلو ہے۔آپ نے کہاکہ  امدادی کاموں میں  خالص مذہبی پہلو سب سے مضبوط سب سے زیادہ پُر جوش اور پائیدار محرکات میں سے  ایک ہے جو کہ  ایمانی مقصد

اور آسمان سے جڑا ہوا ہے  اور جس چیز کا  تعلق خالق سے ہو وہ ایک مضبوط   تعلق  ہے جو کسی ہنگامی صورت حال  سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ ٹوٹتا ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ  اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ  رضاکارانہ عمل دنیا بھر میں  امدادی  تنظیموں کے کام  کا مضبوط ترین ستون ہے اور  اس میں  سب سے اہم  وہ ہے  جو دینی جذبے سے ہو جو خالق سبحانہ وتعالی  سے جوڑتی ہو۔خالص مذہبی جذبات زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، پیاس بجھاتے ہیں،بھوک مٹاتی ہیں، تعلیم   دیتے ہیں، تربیت دیتے ہیں اور یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کرتے ہیں۔

ڈاکٹر العیسی نے مزیدکہاکہ تاہم  یہ ضروری ہے کہ یہ خالص مذہبی  اعمال اور غیر مشروط ہوں۔انہوں نے زور دیا کہ  امدادی کاموں میں   کسی طرح کی مذہبی، سیاسی اور کسی دیگر نوعیت کا تبادلہ چاہے وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ ایک طرح کی بلیک میلنگ اور انسانی ہمدردی کے  خوبصورت عمل کو مسخ کرنے کے مترادف  اور انسانی اور مذہبی اقدار سے عدم معرفت کی دلیل ہے۔

ڈاکٹر العیسی نے  انسان کو صحیح معنوں میں انسان بنانے کے عمل کی اہمیت کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اسے اپنے دوسرے انسان بھائی کے ساتھ کسی معیار کو دیکھے بغیر ہمدردی سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ  یہ صرف ان اعلی اقدار پر بچوں اور نوجوانوں کی صحیح اخلاقی تشکیل سے ہی ممکن ہے جو خاندان، تعلیم،  اردگرد کے ماحول اور مؤثر کرنے والے امور کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ڈاکٹر العیسی نے دنیا بھر میں  رابطہ عالم اسلامی  کی امدادی  کاوشوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہ کہاکہ   وہ  ایمانی اور انسانی جذبے کے تحت کسی بھی امتیاز کے بغیر  اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے چاہے وہ مذہبی ہو کچھ اور ۔ انہوں نے امدادی کاموں میں بہترین خدمات سرانجام دینے والوں کے  اعزاز کے لئے بین الاقوامی ایوارڈ کے اجراء کا بھی اعلان کیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے  ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادہانوم نے اپنے خطاب میں  پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی زندگیوں کو بچانے  کے لئے طبی شعبوں میں کام کرنے والوں کی فوری اور   مؤثر امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہاکہ میں نے جنگ زدہ علاقے میں پرورش پائی ہے، اس کی بُو، چیخیں اور مناظر نے میرے حواس پر اثر چھوڑا ہے۔میں کسی بھی جنگ زدہ علاقے  کا دورہ کرتا ہوں تو وہ تمام مناظر میری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں اور میری خواہش ہوتی ہے کہ یہ جنگ فوری طورپر رک جائے۔

انہوں نے کہاکہ  موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے مسائل تنازعات سے پیدا ہونے والے مسائل سے ہرگز کم نہیں۔انہوں نے ان مسائل کو سنجیدگی سے لینے اور ان کے لئے مسلسل تیار رہنے پر زور دیا ۔

اقوام متحدہ کے اعلی کمشنر برائے مہاجرین کی جانب سے  محترمہ  کیلی کلیمنٹس نے  کہاکہ بے گھر افراد کے بحران کا مستقل علاج امن ہے  اور امن ہی آج انسانیت کو درپیش  بیشتر  مسائل کا حل ہے۔

انہوں نے  خبردار کیا ہے کہ دنیا میں پناہ گزینوں کا بحران اتنا بڑا ہے  کہ کوئی بھی ادارہ اکیلے اس سے نبرد آزما نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے    اس موقع پر  انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے اور انہیں مستحق افراد تک پہنچانے کے لئے  بہترین تعاون  پر  رابطہ عالم اسلامی کا شکریہ اداکیا ۔

ناروے کے سابق وزیر اعظم کجیل میگنے بونڈویک  نے  مستحقین تک انسانی امداد  کی فراہمی کے لئے فلاحی شعبے میں غیر سرکاری تنظیمات کے کردار کو سب سے اہم اور مؤثر قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ  آزاد اور مسقل تنظیمات  اور اداروں  کے کردار کو کم نہ سمجھا جائے کیونکہ زیادہ تر امداد  ان اداروں کی طرف سے آتی ہے نہ کہ حکومتوں کی  جانب سے  جو کہ -اکثر وبیشتر-امداد سے مستفید ہونے والے ممالک سے  رابطہ پر ہی اکتفا کرتی ہیں۔

ورلڈ کونسل آف چرچز کے سیکرٹری جنرل  محترم ڈاکٹر یوان سوکا نے کہاکہ بین الاقوامی امدادی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومی اور مقامی مذہبی تنظیمات او ر معاشرے  انسانی امداد اور ترقی کے لئے  ہراول دستہ اور طویل المیعاد بنیاد ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ  کلیساؤں نے  مذہب تبدیل کرنے یا کسی پوشیدہ ایجنڈے کے لئے انسانی ہمدردی کا  کام شروع نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کرنا چاہئے، ہاں وہ اپنی شناخت کے ساتھ ہر کام میں شامل ہوتے ہیں۔

سابق وزیر اعظم پاکستان جناب سید یوسف رضا گیلانی نے  اپنی جانب سے دکھی عوام کو مؤثر اور بروقت امداد فراہم کرنے کے لئے  تعاون اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ سب کو یقین ہونا چاہئے کہ  مؤثر اور مخلصانہ رابطے  کے ذریعے ہم  دنیا کے بڑے مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں ۔

سیکرٹری جنرل عالمی انجمن صلیب احمر وہلال احمر نے امدادی عمل میں مقامی قیادت کی دستیابی کو اہم مسئلہ قراردیتے ہوئے کہاکہ ہم نے دیکھاکہ کس طرح  صحت اور سفری پابندیوں نے تنظیموں  کے ہاتھ باندھ دیئے تھے اور مقامی قیادت  ہی   ان حالات میں  واحد حل بن کر سامنے آیاتھا۔

انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ امدادی مہم کو در پیش چیلنجز صرف جنگوں اور جھڑپوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان  میں کرونا  بحران کے اثرات کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی،معاشی  تباہی اور ہر شکل میں امتیازی سلوک  بھی شامل ہے۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر ورلڈ فوڈ پروگرام جناب  ڈیوڈ بیسلے نے کہاکہ آئیے ہم دنیا بھر میں امن کے حصول کے لئے مل کر کام کریں۔مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ  باہمی تعاون سے ہم تنازعات  اور جنگوں کا مقابلہ،بھوک کا خاتمہ اور امن قائم کرسکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اشیائے  خورد ونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اورافراطِ زر   نے  دنیا بھر کے 48 سے زائد ممالک  کو   عدم استحکام،سیاسی اضطراب، فسادات اور  مظاہروں کی طرف دھکیل دیا ہے۔

آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کے بین الاقوامی ڈائریکٹر جناب سوامی جیوتھر مایا نے کہاکہ ہر ترقیاتی منصوبے میں امن کا کلیدی کردار ہے اور اس کا ادراک دنیا کے ہر فرد کو ایک اچھا خاندان، محفوظ معاشرہ اور کامیاب ملک  بنانے کا   موقع فراہم کرتاہے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے حال ہی میں دریافت کیا ہے کہ  نفسیاتی دباؤ تشدد پیدا کرتاہے اور یہ تشدد کی ان بہت سی لہروں کی وضاحت کرسکتاہے جن کا آج ہم کرونا بحران کے بعد سامنا کررہے ہیں  جس کی وجہ سے ہر شخص کو نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔