رابطہ عالم اسلامی کی مقبوضہ مشرقی القدس میں ’’ای ون‘‘ آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت
مکہ مکرمہ:
رابطہ عالم اسلامی نے مقبوضہ مشرقی القدس کے مشرق میں واقع ’’ای ون‘‘ آبادکاری منصوبے اور اس سے متعلق تمام آبادکاری سرگرمیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔
رابطہ کے جنرل سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسی نے اس خطرناک منصوبے کی مذمت کی، جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو عملی شکل دینے کے امکانات کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی تمام غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں، نیز فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف آبادکاروں کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں اور تشدد کی کارروائیوں کی حمایت اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک ایسے اسرائیلی طرزِ عمل کا تسلسل ہے، جو متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی اور امن کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر العیسی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے تشدد اور خلاف ورزیوں کی تمام کارروائیوں، آبادکاری پالیسیوں اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی جغرافیائی اور آبادیاتی نوعیت تبدیل کرنے کے دیگر اقدامات کو فوری طور پر رکوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مملکت سعودی عرب، مملکتِ اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ، ریاست قطر اور عرب جمہوریہ مصر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کی بھرپور تائید کرتے ہوئے اسے سراہا، نیز فلسطینی عوام کے ساتھ ان کی مستحکم یکجہتی اور اس کے جائز حقوق کے لیے ان کی غیر متزلزل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، جن میں سرفہرست متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں اور دو ریاستی حل کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق ہے، جو خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔