رابطہ عالم اسلامی کو خلیجی، عرب اور اسلامی ممالک پر ایرانی جارحیت کے خلاف مذمتی پیغامات اور رابطوں کا سلسلہ جاری
مکہ مکرمہ
رابطہ عالم اسلامی کو عالمِ اسلام کے نامور علمائے کرام اور مفتیان عظام کی جانب سے مسلسل ایسی فون کالز اور مذمتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں متعدد عرب اور اسلامی ممالک پر ہونے والی ظالمانہ ایرانی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ان پیغامات میں خاص طور پر رہائشی علاقوں اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے، اور بالخصوص مملکتِ سعودی عرب پر ہونے والے کھلے حملے پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے، جو مسلمانوں کے قبلہ اور ان کے نبی کریم ﷺ کی مسجد کی سرزمین کی میزبانی کا شرف رکھتی ہے، اور جس کے مبارک جوار کو جارحانہ عزائم کے ذریعے خطرات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ علمائے کرام نے اس امر پر زور دیا کہ متاثرہ ممالک کو اپنے امن، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، اور جارحیت کے سدباب کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔
ان معزز شخصیات کی مجموعی آراء میں اس بات پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا گیا کہ ایک اسلامی ملک کی جانب سے اپنے اُن ہمسایہ ممالک پر، جو اس کے خلاف کسی عسکری محاذ آرائی میں شریک نہیں، اس نوعیت کی بے مثال جارحیت انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے رابطہ عالم اسلامی کے مؤقف کی مکمل تائید کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ سنگین جرم شرعی اعتبار سے امت کے ساتھ خیانت، اخوت کے رشتوں کی پامالی اور ہمسائیگی کے تقاضوں سے غداری کے مترادف ہے، اور اس کا دکھ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب یہ اقدام ایسے ملک کی جانب سے ہو جو بظاہر اسلامی اتحاد اور اخوت کا داعی ہو۔
علمائے کرام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام محض نعرے اور دعوے کا نام نہیں، بلکہ اس کے عملی مظاہر اس کی حقیقی اقدار کی ترجمانی کرتے ہیں،جبکہ اس نوعیت کی کھلی جارحیت ان تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ جارحیت نہ تو امتِ مسلمہ کی اخوت کی اقدار سے ہم آہنگ ہے، نہ اس کے مضبوط باہمی روابط سے، اور نہ ہی باہمی ہم آہنگی وتقارب کی کوششوں سے۔ اس کی توجیہ صرف بدنیتی کے تسلسل اور غلط اندازوں پر مبنی پالیسیوں کے تناظر میں ہی کی جا سکتی ہے، جس کی قیمت مسلم ممالک کے مابین تعلقات کے فروغ اور باہمی تعاون کے اس عہد کو نقصان پہنچا رہی ہے، جو اسلامی تعاون تنظیم کے قیام کے وقت طے پایا تھا۔
علمائے کرام نے متنبہ کیا کہ اگر ایران اپنی جارحانہ کارروائیوں سے باز نہ آیا تو اسے اسلامی دنیا میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں سنگین خطرات اور نتائج برآمد ہوں گے،ایسے طرزِ فکر کے تحت جو نہ خیر خواہی رکھتا ہے اور نہ حق وباطل میں امتیاز کرتا ہے۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الكريم العیسیٰ نے علماءِ امت کے ان جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ احساسات نہایت فطری ہیں، اور امت کے اتحاد، باہمی محبت اور یکجہتی کے فروغ کی حقیقی ترجمانی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ علماء کے بیانات میں اس بات کا واضح اعتراف موجود ہے کہ اسلامی ممالک نے اپنی جدید تاریخ میں اس درجے کی بے باک اور غلط اندازوں پر مبنی جارحیت کی مثال نہیں دیکھی۔