رابطہ عالم اسلامی کے تعلیمی پروگراموں کے تحت حفظِ قرآن مکمل کرنے والے حفاظ کی بڑی تعداد کی دستار بندی
ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی روانڈا میں 70 ہزار حفاظ و حافظاتِ قرآن کریم کی تقریبِ تکمیلِ حفظ میں شرکت
کیگالی:
سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں شرکت کی، جہاں 70 ہزار حفاظ و حافظاتِ قرآن کریم کی تکمیلِ حفظ کا جشن منایا گیا۔ اس موقع پر وزراء، اعلیٰ حکام، جید علماء اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
یہ تقریب ان مسلم نوجوانوں کے اعزاز میں منعقد کی گئی جنہوں نے رابطہ عالم اسلامی کے زیرِ اہتمام دنیا بھر، بالخصوص براعظم افریقہ میں جاری تعلیمی اقدامات اور پروگراموں کے تحت حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی ہے۔
تقریب کے افتتاحی خطاب میں ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ نے دنیا بھر میں کتابِ اللہ کی خدمت اور حفاظِ کرام کے اہتمام و نگہداشت کے لیے رابطہ کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر اس بات پر زور دیا کہ ان حفاظ کو انتہا پسندی کے تمام غلط تصورات سے بچانے اور انہیں متشدد تنظیموں کے چنگل میں پھنسنے سے محفوظ رکھنے کے لیے فکری دفاع فراہم کرنا رابطہ کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب اور میڈیا بیان میں واضح کیا کہ رابطہ عالم اسلامی نہ صرف حفظ کراتی ہے بلکہ تعلیم بھی دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رابطہ کے تمام کام، تعلیمی پروگرام اور نصاب متعلقہ ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور ان کی براہِ راست نگرانی میں انجام پاتے ہیں، جو کہ رابطہ کی سرگرمیوں کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔
ڈاکٹر العیسیٰ نے مزید کہا: "ہم سب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان قرآنی اداروں کے ثمرات کا مشاہدہ کریں تاکہ وہ حفظ و تعلیم اور طلبہ کی تربیت کے اس بہترین بین الاقوامی ماڈل سے فائدہ اٹھا سکیں۔" انہوں نے کہا کہ مذکورہ حکومتی نگرانی کی بدولت متعلقہ حکومتیں ان تعلیمی کامیابیوں اور ذمہ داریوں میں رابطہ کی برابر کی شریک ہیں۔
حفاظ کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر ابکر ولر مدو نے اپنے خطاب میں رابطہ کے تعلیمی اداروں کی جانب سے حفاظ کی سرپرستی اور ان میں میانہ روی واعتدال پسندی کی اقدار راسخ کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے رابطہ کے میزبان ملک، مملکت سعودی عرب اور اس کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی مملکت سعودی عرب کی بھلائیوں میں سے ایک ہے جس نے اس کی بنیاد رکھ کر عالم اسلام کو ہدیہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رابطہ حفاظِ کرام کی دیکھ بھال کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے جو کہ "اہل اللہ اور اس کے خاص بندے" ہیں، اور ان میں قرآن وسنت کی روشنی میں ایسا شرعی شعور بیدار کر رہی ہے کہ وہ اعتدال پسندی کے روشن مینار بن چکے ہیں۔ انہوں نے عالم اسلام کے لیے رابطہ کی عام خیر خواہی اور دنیا بھر کے عوام کے درمیان بقائے باہمی وامن کے قیام کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔
تقریب کے دوران ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے اداروں اور مراکز میں قرآن کریم کی تعلیم، حفظ اور حفاظ کی تربیت کے عمل کو موثر انداز میں پیش کیا گیا۔
آخر میں ممتاز حفاظ اور اساتذہ کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا اور ان کے تعلیمی سفر کی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ تقریب میں ان فارغ التحصیل حفاظ کا بھی تذکرہ کیا گیا جو اب اہم عہدوں پر فائز ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کریم کس طرح بہترین قیادت اور انسانی کمالات کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔